Tuesday, 25 October 2016

غوث اعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رح


غوث اعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ العزیز
پادشاہ مشائخ شیخ طریقت, امام شریعت, شرف زہاد,فخر عباد سید محی الدین عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اولیائے عالم کے سردار اور وہ مقدس و بزرگ ہستی ہیں جنھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو زندہ اور روشن کرکے آپ کی نیابت کا پورا حق ادا کردیا..
آپ کا نام نامی اسم گرامی عبد القادر, لقب محی الدین,کنیت ابو محمد,اور عرفیت غوث اعظم تھی.
والد ماجد کی طرف سے آپ کا نسب نامہ.
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی بن سید ابو صالح موسی جنگی دوست بن سید ابی عبد اللہ بن سید یحی الزاہد بن سید محمد بن سید داود بن سید موسی ثانی بن سید عبد اللہ ثانی بن سید الجون بن ابر عبد اللہ المحض بن سید حسن المثنی بن سیدنا امیر المؤمنین امام حسن بن سیدنا امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ.
آپ کی والدہ کی طرف سے نسب نامہ حسب ذیل ہے.
سیدتنا ام الخیر امۃ الجبار فاطمہ بنت سید عبد اللہ الصومعی الزاہد بن سید ابو جمال بن سید محمد بن سید محمود بن سید ابو العطا عبد اللہ بن سید کمال الدین عیسی بن سید ابو علاؤ الدین محمد الجواد بن سید علی الرضا بن سید موسی الکاظم بن سیدنا امام جعفر صادق بن سیدنا امام باقر بن سیدنا امام زین العابدین بن سیدنا امیر المؤمنین امام حسین بن سیدنا امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ.
اس نسب نامہ کے مطابق آپ حسنی و حسینی سیّد ہیں..
ولادت: ایک زرخیز قصبہ گیلان میں ہوئی.
تاریخ ولادت میں اختلاف ہے.
بعض ٤٧٠ھ اور بعض ٤٧١ھ لکھتے ہیں.
آپ کے مختصر حالات
بغداد میں ورود با مسعود
بغداد میں آپ نے وقت کے معروف مدرسہ نظامیہ میں داخلہ لیا اور وقت کے اساطین علم وعمل سے کسب فیض کیا ،چند ہی سال کے عرصے میں علوم اسلامیہ کے عالم بے بدل ہوگئے ، لیکن حدیث نبوی سے بے پناہ والہانہ لگاؤ تھا ، اسی لیے زندگی بھر بغداد میں درس حدیث دیتے رہے ۔
 آپ تا دم زیست متبع کتاب وسنت ، توحید کے علم بردار اور شرک وبدعات سے بری اور بیزار رہے ، آپ کا نعرہ تھا : لا معبود الا ﷲ ولا دلیل الا رسول ﷲ یعنی ﷲ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی حجت اور دلیل نہیں “۔
 جاہلوں اور نادانوں نے آپ کی زندگی میں ہی بہت سی کرامتوں کو آپ سے منسوب کردیا تھا ۔
 آپ کی کرامتوں کی شہرت سے متاثر ہوکر ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور سترہ سال آپ کی خدمت میں رہ کر علم وعمل سیکھتا رہا ، لیکن آپ کی زندگی میں وہ کرامتیں نہیں پائیں جن کی شہرت کا ڈنکا چہار دانگ عالم میں بج رہا تھا ، وہ مایوس ہوکر ایک دن اپنا بوریا بستر گول کررہا تھا کہحضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ وہاں پہنچ گئے اور فرمایا :” کہاں کا ارادہ ہے ؟“وہ کہنے لگا : ”حضرت ! آپ کی کرامتوں کی شہرت نے مجھے یہاں کھینچ لایا تھا ، لیکن سترہ سال کے عرصے میں میں نے کسی بھی کرامت کا مشاہدہ نہیں کیا ، اس لیے رخصت ہورہا ہوں “ آپ نے فرمایا : ”اس سترہ سال کے عرصے میں تم نے مجھے کوئی فرض چھوڑتے ہوئے دیکھا ہے ؟کیا کوئی سنت مجھ سے رہ گئی ہے ؟ کسی منکر یا مکروہ کو بجا لاتے ہوئے دیکھا ہے ؟کسی معروف سے کنارہ کشی کا مشاہدہ کیا ہے ؟ “
وہ کہنے لگا :” حضرت ! اس طرح کی کوئی بات میں نے آپ میں نہیں دیکھی “آپ نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے فرمایا : ” جا یہی میری سب سے بڑی کرامت ہے “۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ راہ ِ ہدایت پر استقامت سب سے بڑی کرامت ہے ،مشہور مفکر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی  رحمه الله  لکھتے ہیں :
 ” حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة ﷲ علیہ کی سب سے بڑی کرامت ، مردہ دلوں کو زندہ کرنا ، ان میں ایمان اور خشیت الٰہی کے بیج بونا اور مردہ دلوںمیں ایمانی حرارت پیدا کرناہے ، آپ کے ذریعے ﷲ تعالیٰ نے بے شمار انسانوں کو حیات ایمانی عطا فرمائی، آپ کے مواعظ حسنہ اور تربیت سے ایمان کی ایسی باد نسیم چلی کہ مردہ دلوں کو زندگی بخشی، بیمار دلوں کو شفا یابی بخشی اور آپ کے ذریعہ عالم اسلام میں ایمان ، تقویٰ اور اخلاق فاضلہ کی بہار آگئی۔ ﷲ تعالیٰ نے آپ کو عالم اسلام کی دینی اور روحانی سربراہی عطا فرمائی، اپنی دعوت کی نشر واشاعت کے لیے آپ نے بغداد کو چنا ، جو اس وقت خلافت عباسیہ کا پایہ تخت ، عالم اسلام کا دھڑکتا ہوا دل اور ساری دنیا میں سب سے بڑی آبادی والا شہر تھا ، صرف اسی بات سے ہی اس شہر کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کے وعظ وارشاد کی مجلسوں میں ستّر ہزار سے زیادہ لوگ شریک ہوتے تھے “۔( تاریخ دعوت وعزیمت )
 توحید کی دعوت
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة ﷲ علیہ نے ساری زندگی توحید کا درس دیا اور ساری انسانیت کو شرک ، بت پرستی ، قبر پرستی اور غیر ﷲ سے استغاثہ اور استمداد سے روکتے رہے ، فرماتے ہیں :
 (1) ” مخلوق کو خالق کے ساتھ شریک کرنا چھوڑ دے ، اور حق تعالیٰ کو یکتا سمجھ ، وہی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے ، اسی کے ہاتھ میں تمام اشیاءہیں، اے غیر ﷲ سے کسی چیز کے مانگنے والے ! تو بے وقوف ہے ، کیا کوئی ایسی چیز ہے جو اﷲ کے خزانوں میں نہ ہو ؟ ﷲ عزوجل فرماتا ہے :” کوئی بھی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں “ ( یعنی ہر چیز کے خزانے اس کے پاس ہیں ) “ ( فیوض یزدانی :مجلس نمبرا صفحہ 25)
 (2) ”بہادر وہی ہے جس نے اپنے قلب کو ما سوا اﷲ سے پاک بنایا اور قلب کے دروازے پر توحید کی تلوار اور شریعت کی شمشیر لے کر کھڑا ہوگیا کہ مخلوق میں سے کسی کو بھی اس میں داخل ہونے نہیں دیتا ، اپنے قلب کو مقلب القلوب سے وابستہ کرتا ہے ، شریعت اس کے ظاہر کو تہذیب سکھاتی ہے اور توحید ومعرفت باطن کو مہذب بناتی ہے“
( فیوض یزدانی :مجلس نمبر31 صفحہ 88)
 (3) ”تو کب تک مخلوق کو شریک خدا سمجھتا اور ان پر بھروسہ کرتا رہے گا ؟ تجھ پر یہ جاننا واجب ہے کہ ان میں سے کوئی بھی نہ تجھ کو نفع دے سکتا ہے نہ نقصان ، ان کا محتاج وتونگر اور معزز وذلیل سب برابر ہیں ، حق تعالیٰ کا آستانہ پکڑ لے ، نہ مخلوق پر بھروسہ کر اور نہ اپنے کسب پر اور طاقت وزور پر ، بس حق تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کر ، اسی ذات پر بھروسہ کر جس نے تجھ کو کسب پر قدرت بخشی اور تجھ کو کمانا نصیب فرمایا ، پس تو جب ایسا کرے گا وہ تجھ کو اپنے ساتھ سیر کرائے گا اور اپنی قدرت وعلم ازلی کے عجائبات دکھائے گا، تیرے قلب کو اپنے تک پہنچائے گا “۔(فیوض یزدانی :مجلس نمبر48 صفحہ 85)
 محترم قارئین !یہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ کے وہ ملفوظات ہیں جو آپ نے اپنی مجلسوں میں حاضرین اور شاگردوں کے حلقوں میں دئیے ۔ذرادیکھئے آپ کے ان الفاظ میں خالص توحیدکی بوٹپکتی ہے ، عبادت اور بندگی کے تمام اقسام صرف اﷲ کے لیے خاص کردئیے گئے ہيں ، مشرکوں ، ملحدوں، غیر اﷲ کو پکارنے والوں ، مخلوق سے حاجت روائی کی امید رکھنے والوں کی مذمت کی گئی ہے اور اس سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔
   آپ نے بڑے بڑے مجاھدے کئے
آپ آبادی چھوڑ کر جنگلوں اور بیابانوں میں رہنے لگے.
آپ خود ہی بہجۃ الاسرار میں فرماتے ہیں
ان دنوں میرے پاس رجال الغیب اور جن آتے جنھیں میں علم طریقت کی تعلیم دیا کرتا تھا.
ایک بار فرمایا شیاطین مختلف ڈراونی صورتوں میں میرے پاس آتے اور مجھ سے جنگ کرتے مگر اللہ تعالی کے فضل سے میں ہمیشہ ان پر غالب ہی رہتا ......
میں نے اپنے نفس کو طرح طرح کی ریاضتوں اور مشقتوں میں ڈالا چنانچہ ایک سال گری پڑی چیزیں کھاتا اور پانی نہ پیتا.
اور ایک سال گری پڑی چیزیں نہ کھاتا اور پانی پیتا. ایک سال نہ کھاتا نہ پیتا نہ سوتا..
آپ نے فرمایا میں نے چالیس سال تک عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی اور پندرہ سال تک یہ کیفیت رہی کہ ساری رات ایک پاؤں پر کھڑے ہوکر صبح تک پورا قرآن کریم ختم کر لیا کرتا..
آپ نے فرمایا ابتدائے حال میں میں اپنے وجود سے غائب ہوجاتا اور اکثر بے ہوشی کی حالت میں دوڑا کرتا تھا اور جب یہ کیفیت دور ہوجاتی میں اپنے آپ کو کسی دور دراز مقام پر پاتا..
الغرض عبادت وریاضت اور مجاھدات شاقہ کے بعد آپ نے پوری طرح تزکیہ باطن کرلیا
تو حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخرمی سے بیعت کی اور ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے.شیخ نے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا. فرماتے ہیں کہ شیخ کے ہاتھ سے جو لقمہ میرے پیٹ میں جاتا وہ میرے اندر ایک نور بھر دیتا..
شیخ نے خرقہ ولایت عطا کرتے وقت فرمایا
اے عبد القادر! یہ وہی خرقہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا تھا ان سے حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کو ملا پہر ان سے مجھ تک پہنچا....
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ کے دو سلسلے ہیں
.      (پہلا سلسلہ)
١) حضرت شیخ عبد القادر جیلانی
٢) حضرت ابو سعید مخزومی
٣)حضرت ابو الحسن قرشی
٤) حضرت ابو الفزح طرطوسی
٥)حضرت عبد الواحد بن عبد العزیز نمیمی
٦) حضرت ابو بکر شبلی
٧) حضرت جنید بغدادی
٨) حضرت سری سقطی
٩) حضرت معروف کرخی
١٠) حضرت داود طائی
١١) حضرت حبیب عجمی
١٢) حضرت حسن بصری
       (رحمہم اللہ )
١٣) حضرت علی کرم اللہ وجہہ
١٤) حضرت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ  وسلم ..........
       (دوسرا سلسلہ)
١)حضرت شیخ عبد القادر جیلانی
٢) حضرت سید ابو صالح
٣) حضرت سید عبد اللہ جبلی
٤) حضرت سید یحی زاھد
٥) حضرت سید داود (ابن موسی ثانی)
٦) حضرت سید موسی ثانی (ابن عبد اللہ)
٧) حضرت سید عبد اللہ (ابن سید موسی)
٨) حضرت سید موسی الجون
٩) حضرت سید عبد اللہ المحض
١٠) حضرت سید حسن مثنی
         (رحمہم اللہ)
١١) حضرت سید حسن بن علی رضی اللہ عنہ
١٢) حضرت علی رضی اللہ عنہ
١٣) حضرت محمد مصطفے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم....
(از شجرات نعمانیہ حضرت مرحوم قطب الدین ملا رحمۃ اللہ علیہ )
         فتاوی و مسلک
آپ حضرت امام شافعی و امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ کے مذھب پر فتوی دیا کرتے تھے اور عراق کے اندر فتاوی میں مرجع خلائق تھے.. اور اپنی کتابوں خصوصا غنیۃ الطالبین میں جا بجا انھیں کے حوالے دیتے ہیں اور اکثر جگہ "ہمارے امام" کے الفاظ سے خطاب کرتے ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ آپ انہی دونوں بزرگان کرام کے مذھب پر تھے..
٣٣ سال تک درس وتدریس اور افتاء کے کام میں مشغول رہے...
           شادی واولاد
آپ نے چار شادیاں کیں آپ کی چاروں ازواج آپ کے روحانی فیوض وکمالات سے فیضیاب تھیں..
اور انچاس بچے تھے.. بیس لڑکے باقی سب لڑکیاں...
آپ کے سب سے بڑے صاحب زادے کا نام شیخ عبد الوھاب تھا جنھوں نے والد بزرگوار کے ساتھ انھیں کے مدرسہ میں درس وتدریس کا کام کیا اور والد بزرگوار وعظ و نصیحت جاری رکھی آپ شیریں کلام کے لقب سے مشہور تھے..
دوسرے ایک صاحب زادے شیخ حافظ عبد الرزاق بڑے بلند پائے کے عالم اور بزرگ گزرے ہیں....
          وصال
حضرت غوث اعظم نے اپنی زندگی ابتدائی سترہ سال اپنے وطن ہی میں گزارے. اس کے بعد نو سال بغداد میں رہ کر علوم ظاہری وباطنی کی تکمیل کی. پچیس سال عراق کے بیابانوں اور جنگلوں میں ریاضات و مجاھدات کے ذریعہ سے منازل سلوک طے کئے. پہر چالیس سال تک ارشاد وھدایت اعلائے کلمۃ الحق اور اصلاح خلق میں مصروف رہے اور ہزاروں بندگان خدا کو قعر ضلالت سے نکال کر ھدایت و حکمت کے راستوں پر لگا دیا..
بالاخر اکانوے سال کی عمر میں یہ آفتاب غوثیت غروب ہوگیا. آپ نے ١١ ربیع الثانی٥٦١ ھ میں داعی اجل کو لبیک کہا بغداد میں آپ کا مرقد مبارک آج تک مرجع خلائق بنا ہوا ہے...فانا للہ وانا الیہ راجعون..
(از غنیۃ الطالبین )
فقط واللہ تعالی اعلم 


No comments:

Post a Comment