Tuesday, 25 October 2016

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری قدس سرہ


 حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری قدس سرہ
خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی اصل وطنی نسبت سجزی ہے.. سجزی نسبت سجستان کی طرف ہے .قدیم جغرافیہ نویس عام طور پر اس کو خراسان کا ایک حصہ مانتے ہیں. موجودہ زمانے میں اس کا اکثر حصہ ایران میں شامل ہے اور باقی افغانسان میں...
(از تاریخ دعوت و عظیمت ٣/٢٤ حاشیہ بحوالہ احسن التقاسیم )
آپ کی پیدائش باتفاق اھل تواریخ ٦٣٧ھ ایران کے علاقہ سیستان قصبہ سنجر میں ہوئی آپ ھندوستان کے امام الطریق تھے آپ ہی سے ھندوستان میں علوم معرفت کا افتتاح ہوا اور سلسلہ چشتیہ ھندوستان میں آپ ہی سے پھیلا اور ھندوستان میں نوے لاکھ آدمی آپ کے ہاتھ پر اسلام لائے.
آپ کا نسب گیارہ پشت پر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر ملتا ہے .
آپ کے کمالات بحر لامتناہی ہیں حتی کہ کہتے ہیں کہ جس پر نظر ڈالتے تھے وہ صاحب معرفت ہوجاتا تھا.
علوم ظاہریہ و باطنیہ دونوں میں کمال حاصل تھا.آپ کی عمر پندرہ سال کی تھی تب آپ کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا..
        سلوک کی ابتداء
تقسیم وراثت میں آپ کے حصہ میں ایک باغ آیا اس کی نگرانی آب پاشی وغیرہ خاص طور سے فرماتے تھے.ایک مرتبہ اس میں مشغول تھے کہ ایک مجذوب ابراھیم قہنذری باغ میں تشریف لائے. حضرت شیخ نے ان کی بڑی تعظیم و تکریم کی اور ان کے لئے کچھ انگور اور کچھ پھل لیکر آئے.
ابراھیم مجذوب نے اپنے دانتوں سے چبا کر حضرت خواجہ کو دیا جس کو کھاتے ہی باغ میں ایک نور ظاہر ہوا اور حضرت خواجہ کی حالت دگرگوں ہوگئی. دنیا سےبالکل منقطع حق تعالی جل شانہ وعم نوالہ کی طرف خاص کشش پیدا ہوگئی.باغ وغیرہ فروخت کرکے فقراء کو تقسیم کردیا اور سفر کے لئے چل دئے اول سمرقند پہنچے وہاں حفظ قرآن اور تعلیم علوم ظاہری میں مشغول رہے اس سے فراغت کے بعد عراق تشریف لے گئے اور قصبہ ھارون میں پہنچکر خواجہ عثمان ھارونی سے بیعت ہوئے.
اور ایک ہی دن میں تکمیل ہوگئی. اور ساتھ ہی ساتھ حضرت شیخ کی توجہ سے سب علوم حاصل ہوگئے اور اس کے بعد امتثال امر کی وجہ سے بیس سال حضرت کی خدمت میں اور رہے....
پہر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم کی بنا پر ھندوستان (دس محرم ٥٦١ ھ) تشریف لائیں. اجمیر کی تعیین ظاہر ہے کہ ارشاد ہی سے کی ہوگی.
وہاں سب سے پہلے مرید میر حسین صاحب تھے جو اول مذھب شیعہ رکھتے تھے بعدہ اس سے تائب ہوکر حضرت سے بیعت ہوئے اور کمال حاصل کیا اس کے بعد ہزارہا خلقت داخل سلسلہ ہوئیں....
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی, حضرت بابا فرید الدین گنج شکر اور خواجہ نظام الدین اولیاء جیسے عظیم الشان پیران طریقت کے آپ مرشد ہیں ..
حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ھندوستان میں جو کچھ خدا کا نام لیا گیا اور اسلام کا کام کیا گیا وہ سب چشتیوں اور ان کے مخلص عالی ھمت بانی سلسلہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے حسنات اور کارناموں میں شمار کئے جانے کے قابل ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ اس ملک پر اس سلسلہ کا حق قدیم ہے
مولانا غلام علی آزاد نے صحیح لکھا ہے
"لا شک بزرگان چشت عنبر سرشت را حقی است قدیم بر ولایت ھند"
اس میں کوئی شک نہیں کہ بزرگان سلسلہ چشت کا ملک ھندوستان پر حق قدیم ہے.
اور صاحب سیر الاقطاب کا یہ لکھنا بھی صحیح ہے کہ ھندوستان میں ان کے دم قدم کی برکت سے اسلام کی اشاعت ہوئی اور کفر کی ظلمت یہاں سے کافور ہوئی..
(سیر الاقطاب ١٠١)
(تاریخ دعوت و عظیمت ٣/٢٩ بحوالہ ماثرا الکرام ٧)
حضرت کثیر المجاھدہ تھے ستر سال تک رات کو نہیں سوئے آپ کے کمالات و کرامات تحریر سے باہر ہیں.
آپ کے کمالات کی انتہاء ہے کہ آپ کے شیخ آپ کی بیعت پر فخر فرماتے تھے..
          جود وسخا
حضرت خواجہ قطب الدین سے نقل ہے کہ میں بیس سال حضرت کی خدمت میں رہا ہوں کبھی کسی کو حضرت نے انکار نہیں کیا جب کوئی شخص کچھ مانگنے آیا حضرت مصلے کے نیچے ہاتھ ڈالکر جو اس کی قسمت کا ہوتا وہ اس کو مرحمت فرما دیتے. غریبوں کی بندہ پروری کرنے کے عوض عوام نے آپ کو غریب نواز کا لقب دیا آپ کا یہ بھی بیان ہے کہ میں اس عرصہ میں حضرت کوغصہ ہوتے نہیں دیکھا.
           ارشادات
آپ کا مقولہ ہے کہ معرفت حق کی علامت ہے کہ خلقت سے بھاگنے لگے..
فرمایا کرتے تھے کہ اھل معرفت کی عبادت پاس انفاس ہے.
اور شقاوت کی علامت یہ ہے کہ آدمی مبتلائے معصیت ہو اور پھر بھی اپنے آپ کو مقبول سمجھے.
             وفات
آپ کی وفات سلطان التمش کے دور میں ہوئی اور تاریخ وفات بقول جمہور اھل تاریخ ٦ رجب یوم دو شنبہ ہے. بعض.لوگوں نے ٣٠ ذی الحجہ کہا ہے مگر صحیح پہلا قول ہے. مزار شریف اجمیر میں ہے....
(از تاریخ مشائخ چشت حضرت شیخ زکریا نور اللہ مرقدہ )
شجرہ چشتیہ نعمانیہ.ملاحظہ ہوں
١) حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
٢) حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ
٣) حضرت سیدنا حسن بصری
٤) حضرت سیدنا عبد الواحد بن زید
٥) حضرت سیدنا فضیل بن عیاض
٦) حضرت سیدنا ابراھیم بن ادھم
٧) حضرت سیدنا حزیفہ مرعشی
٨) حضرت سیدنا امین الدین ابو ھبیرہ
٩) حضرت سیدنا ممشاد علوی دینوری
١٠) حضرت سیدنا ابو اسحاق شامی
١١) حضرت سیدنا ابو احمد ابدال چشتی
١٢) حضرت سیدنا ابو محمد محترم چشتی
١٣) حضرت سیدنا ابو یوسف چشتی
١٤) حضرت سیدنا مودود چشتی
١٥) حضرت سیدنا شریف زندنی
١٦) حضرت سیدنا عثمان ھارونی
١٧) حضرت سیدنا معین الدین حسن سجزی چشتی اجمیری
      (رحمھم اللہ تعالی )
(از شجرہ نعمانیہ حاجی قطب الدین ملا)
فقط واللہ تعالی اعلم
(اللہ تعالی ان حضرات کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائیں اور ہم تمام کو ان کے باطنی و روحانی فیوض سے مستفیض فرمائیں آمین )


No comments:

Post a Comment