Tuesday, 25 October 2016

نبئ كريم صلى الله عليه وسلم کی یوم ولادت و وفات


نبی کریم علیہ السلام کی یوم پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے، بعض نے بارہ ربیع الاول، بعض نے آٹھ ربیع الاول بعض نے کوئی اور تاریخ بتلائی ہے، بارہ ربیع الاول معروف ومشہور ہے مگر یہ راجح نہیں، جمہور محدثین اورموٴرخین کے نزدیک راجح اور مختار قول آٹھ ربیع الاول کا ہے ، عبد اللہ بن عباس اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہما سے بھی یہی منقول ہے، اور اسی قول کو علامہ قطب الدین قسطلانی نے اختیار کیا ہے (زرقانی: ۱/ ۱۳۱، بہ حوالہ سیرت المصطفیٰ: ۱/۵۱) یہی قول محقق رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالی کا ہے،  مصر کے ایک محقق نے خوب تحقیق کرکے ۹ ربیع الاول کو ترجیح دی ہے جیسا کہ بنی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حاشیہ میں مذکور ہے، حتی کہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ نے ”رحمة للعالمین“ میں بارہ ربیع الاول کے قول کو غیرمعتبر کہا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ولادت کی یہ تاریخ ممکن ہی نہیں۔ یوم وفات کے بارے میں اتفاق ہے کہ ماہ ربیع الاول بروز دوشنبہ کو ہوئی ہے، البتہ تاریخ میں اختلاف ہے، مشہور قول کی بنا پر بارہ ربیع الاول کو وفات ہوئی ہے، موسیٰ بن عقبہ، لیث بن سعد، خوارزمی علیہم الرحمة نے یکم ربیع الاول کو مانا ہے، کلبی اور ابومخنف نے دو ربیع الاول کو, یہی محقق رشید احمد لدھیانوی کا مختار ہے آپ نے ابن حجررحمہ اللہ تعالی کا قول نقل کیا کہ" ولد ثانی شھر ربیع الاول" تھا کسی نے نقل میں غلطی کی اور ثانی شھر،  ثانی عشر ہوگیا اور ۱۲ ربیع الاول مشہور ہوگیا۔
والله تعالی اعلم

No comments:

Post a Comment