Tuesday, 25 October 2016

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواریاں اور انکے نام


آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں صرف سات گھوڑوں کو یہ اعزاز نصیب ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر سواری کی ان کے نام یہ ہیں:۔
السکب: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا گھوڑا تھا۔
المرتجز: یہ ایک اعرابی سے خریدا گیا تھا۔
اللزاز: یہ اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس نے بھیجا تھا۔
الظرب: یہ ربیعہ بن ابراءرضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا۔
الورد: یہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے بطور ہدیہ پیش کیا تھا۔ ٭یعسوب‘ الجیف: یہ دونوں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جنگی گھوڑے تھے۔
اونٹنی قصوا تھی،اسے جدعاءاور عضباءبھی کہتے ہیں۔ یہ وہ اونٹنی ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تھی۔
ذكر الامام ابن القيم رحمه الله ما تسئلون عنه في زاد المعاد
1/133 (فصلٌ في دوابه )
اما العدد فالمتفق عليه سبعة:
سَكْبٌ, لُحَيْفٌ, سَبْحَةٌ, ظَرِبٌ, لِزَازٌ, مُرتَجَزٌ, وَرْدُ.
: ففي صحيح البخاري من حديث عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم اشترى راحلة الهجرة من أبي بكرالصديق رضي الله عنه. وهما راحلتان اشتراهما أبو بكر ، فجاء بإحداهما إلى رسول الله صلى الله عليه سلم وقال له: فخذ بأبي أنت يا رسول الله إحدى راحلتي هاتين. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " بالثمن " قالت عائشة فجهزناهما أحث الجهاز. وهذه الناقة هي نفسها التي بركت في مربد الغلامين اليتيمين، والذي اتخذ فيما بعد مكاناً للمسجد النبوي. والمشهور عند الحفاظ والمؤرخين أن اسم هذه الناقة (القصواء) اشتراهاأبو بكر الصديق هي وأخرى من بني قشير بثمان مائة درهم، وباعها أي -القصواء- لرسول الله صلى الله عليه وسلم، وماتت في خلافة أبي بكر رضي الله عنه. وكانت مرسلة ترعى بالبقيع. وهذا -كما قال الزرقاني في شرح المواهب- ما قاله الواقديوتبعه غير واحد من الحفاظ. انتهى. و الواقدي وإن كان لا يعتمد عليه في الحديث، إلا أن هذا مما قاله غيره من الحفاظ. وأما ابن إسحاق فعنده أن الناقة التي هاجر عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم اسمها الجدعاء، وهذا تناقله طائفة من أهل العلم كـ ابن سعد و ابن جرير و ابن عساكر و ابن الأثيروغيرهم، ولكن هؤلاء قالوا: الجدعاء والقصواء شيء واحد، أي أنهما اسمان لناقة واحدة. والقصواء مأخوذة من قصا البعير والشاة قطع من طرف أذنه. وناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم سميت بالقصواء ولم يكن بها شيء. والجدعاء: هي المقطوعة الأنف أو الأذن أو الشفة، من الجدع، ولم يكن في ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم شيء من ذلك، وإنما هو لقب. وهذا يقوي أن القصواء والجدعاء شيء واحد.
والله أعلم.




بابا رتن ہندی کی زندگی کے احوال وکوائف


▪ بشکریہ ماهنامه دارالعلوم ، شماره 3 ، جلد: 94 ربيع الاول – ربيع الثانى 1431 هـ مطابق مارچ 2010 ء

بابا رتن اوران کے حالاتِ زندگی

🌱از: مولانا عبیداللہ فاروق بارہ بنکی
مدرسہ جامعہ عربیہ ضیاء العلوم، بارہ بنکی

🌴محدثین اورمورخین کے نزدیک یہ طے شدہ بات ہے کہ سب سے آخری صحابی حضرت ”ابوالطفیل عامر بن واثلہ“ رضی اللہ عنہ ہیں، جن کی وفات دوسری صدی کے بالکل اوائل میں ہوئی۔ آپ کے انتقال کے بعد روئے زمین حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کے صحبت یافتہ حضرات سے یکسرمحروم ہوگئی۔ لیکن چھٹی صدی ہجری کے اواخر میں ایک ہند نژاد شخص نے اپنے آپ کو صحابی رسول بتاکر ایک اچھا خاصا بھونچال کھڑا کردیا۔ یہ شخص ”رتن سنگھ ہندی“ ہیں جو ہندوستان میں ”بابا رتن“ اور ”ہندوستانی صحابی“ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

بابا رتن کی زندگی کے تمام گوشوں میں شدید انکار وتوثیق کی عجیب وغریب ”کش مکش“ پائی جاتی ہے؛ مگر سب سے زیادہ اختلاف آپ کی ”صحابیت“ کے بارے میں ہے۔ یہ اختلاف اُسی زمانے کے مقتدر علماء میں تھا اور بعد کے علماء نے اپنے ذوق ومذاق کے اعتبار سے طعن وتشنیع اور تائید و توثیق کی ہے۔

ہندوستانی علماء میں علامہ مناظراحسن گیلانیرحمة الله عليه اور مولانا عبدالصمد صارم الازہری کی اردو تحریریں بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہیں۔ اگرچہ علامہ گیلانی کا فیصلہ سکوت پر مبنی ہے مگر بابا رتن کی صحابیت کے انکار کرنے والوں کی دبے انداز میں طرفداری کی ہے، جبکہ مولانا عبدالصمد صارم صاحب نے تائید و توثیق کرنے والوں کا کھل کر ساتھ دیا ہے۔ ذیل میں ”بابارتن“ کے حالات علماء کے اختلاف کے ساتھ درج کیے جارہے ہیں۔

آپ کی پیدائش آپ کے آبائی وطن میں ہوئی مگر آبائی وطن کون ہے؟ اس میں شدید اختلاف ہے۔ مولانا گیلانی نے ”بھنڈہ“ نامی گاؤں کو مانا ہے جو ”سندھ“ اور دہلی کے راستے میں واقع ہے، لیکن مولانا عبدالصمد صارم لکھتے ہیں کہ ”آپ موضع ترمذی“ قصبہ ’ریڑھ“ ضلع ”بجنور“ کے رہنے والے تھے، وہ ہندوؤں کی ایک قوم کے چوہان تھے، اس خاندان کا ایک ”گوت تسیرا“ تھا آپ اسی خاندان سے ہیں“ (رسالہ جہان کتب،ص:۲۴، مارچ ۲۰۰۸ء)

دونوں بزرگوں نے اپنے قول کو ہر طرح سے مدلّل کرنے کی کوشش کی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ دونوں بزرگوں کا کہنا ہے کہ ہم ان کے آبائی وطن (جو دونوں کے نزدیک محقق ہے) گئے، وہاں کے لوگوں سے معلوم کیا، لوگوں نے اس کی تصدیق کی۔ ان حضرات کی جو بھی تحقیق ہے وہ ان کی ذہانت، دور رسی اور بالغ نظری پر دال ہے جو یہاں اختصار کے پیش نظر بیان نہیں کی جارہی ہیں۔ پھر ان حضرات کا آپ کی تاریخ وفات اور ”مدفن“ میں بھی اختلاف ہے، علامہ گیلانی نے ”بابا صاحب“ کی تاریخ وفات ۶۳۲ھ اور قبر ”بھنڈہ“ میں بتائی ہے جیساکہ آئین اکبری میں ہے کہ ”درہفت صد سال ہجری فروشد وہما نجا آسود“ مگر مولانا عبدالصمد صارم کا کہناہے کہ ”بھنڈہ“ میں فروکش ہونے والے شخص بابا رتن نہیں بلکہ ”حاجی رتن“ ہیں، جو خواجہ ”معین الدین اجمیری“ کے مُرید تھے ”ابوالفضل کو یہاں البتاس ہوگیاہے“ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ”بابارتن“ ”حاجی رتن“ اور ”گوگاپیر“ جو حاجی صاحب کے مرید تھے، یہ تینوں شخصیتیں جدا جدا ہیں لوگوں نے حالات میں خلط ملط کرکے گوگا پیر،اور حاجی صاحب کو ایک بنادیا پھر حاجی رتن اور ”بابا رتن“ کے مابین فرق مٹادیا، پھر اپنی تحقیق کو تاریخی اور مذہبی کتابوں کے حوالوں سے موٴید کرتے ہوئے اس کا نتیجہ یوں بیان کرتے ہیں ”کہ گوگا پیر کے حالات مختلف کتابوں، مختلف مقامات، قدیم زبانی رواتیوں اور گیتوں سے اخذ کیا،تو مجھے پتہ چلا کہ ”بابارتن“ اور ”حاجی رتن“ دو جداگانہ شخصیتیں ہیں۔

اگرمولانا کی تحقیق صحیح ہے تو آپ کی تاریخ وفات اور ”مدفن“ کے بارے میں آپ کی رائے معتبر ہوگی۔ (جہان کتب،ص:۲۴-۲۵) جن کا تذکرہ آگے آرہا ہے۔

بہرکیف: آپ ہندوستانی باشندے ہیں قصبہ ”جیور“ ضلع ”علی گڑھ“ کی حکومت کے وزیر تھے ایک دن موسم گرما کی رات میں چھت پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انھوں نے دیکھا کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے، چاند کا ایک حصہ مشرق میں ایک مغرب میں منقسم ہوگیا، اندھیرا چھاگیا پھر تھوڑی دیر بعد دونوں اس طرح مل گئے، جیسے اس میں شگاف ہی نہ ہوا ہو، آپ کو حیرت ہوئی اس کی تحقیق کرائی تو معلوم ہوا کہ حجاز میں ”نبی آخرالزماں“ نے کفّارِ مکہ کے مطالبے پر یہ معجزہ دکھلایا ہے۔ ملاقات کی غرض سے ملک حجاز کے لیے عازمِ سفر ہوئے اور تحفے میں املی اپنے ساتھ لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور آپ کے ہاتھوں مشرف باسلام ہوئے۔(ملخص حضرت رتن سنگھ)

”بابا رتن“ نے اپنے اسلام لانے کے بارے میں آپ سے ملاقات کرنے والے ”داؤد بن سعد قفال سنجروی“ جو ایک نیک طینت اور صالح آدمی ہیں، سے بیان کیا کہ ”میں ابتدا میں بت پرست تھا، ایک رات خواب میں دیکھا کہ میں ملک ”شام“ میں ہوں، لہٰذا میں نئے مذہب کی تلاش میں ملک ”شام“ گیا، وہاں عیسائیت کا بول بالا تھا، میں نے عیسائیت قبول کرلی، کچھ عرصے کے بعد میں نے رسول اللہ -صلى الله عليه وسلم- کے بارے میں سنا اور ”مدینہ منورہ“ جاکر مشرف باسلام ہوا، حضور صلى الله عليه وسلم نے میرے لیے درازیٴ عمر کی دعا کی، میں آپ کے ساتھ یومِ خندق میں شریک تھا، پھر اجازت لے کر وطن واپس آگیا۔ (ایک ہندوستانی صحابی،ص:۲۵)

وطن آنے کے بعد آپ نے کون کون سے کام انجام دئیے؟ اور آپ کا انتقال کب ہوا؟ اس کے بارے میں مولانا عبدالصمد صارم صاحب رقم طراز ہیں کہ ”ایک عرصے تک مدینہ شریف میں رہے اور پھر وطن چلے آئے اور موضع ”کھادڑی“ متصل ”اعظم پور باسٹہ“ ضلع ”مراد آباد“ (یوپی) میں سکونت اختیار کی اور ریاضت ومجاہدہ میں مشغول ہوگئے۔ انھوں نے ۶۲۵ھ میں وفات پائی اس موضع میں ان کا مزار زیارت گاہِ خلائق ہے۔“ (جہانِ کتب)

جب آپ نے اپنے بارے میں صحابیٴ رسول ہونے کا دعویٰ کیا تو لوگوں میں عجیب وغریب چرچے ہونے لگے کچھ لوگ عقیدت ومحبت کی نگاہ سے دیکھنے لگے اور کچھ لوگوں نے ان کی برائی بیان کرنا شروع کی۔ تاجروں، سیاحوں اور مُریدوں نے اس بات کو ”مشرق“ سے ”مغرب“ تک پہنچادیا رفتہ رفتہ یہ بات محدثین، نُقاد، ماہرین علوم اور اربابِ علم وفضل کی مجلسوں میں موضوعِ بحث بن گئی۔ شیدائیانِ حدیث نے اندلس، یوروپ اور دور دراز ملکوں کا سفر کرکے مشکلات ومصائب سفر برداشت کرکے ”بابا رتن“ کا دیدار کیا ان کے احوال و کوائف سے باخبر ہوئے اور حدیثیں سنیں۔ جن حضرات نے ان کو دیکھ کر براہِ راست ان کی زبانی احوال سنے ہیں اور حدیثوں کا سماع کیا ہے ان میں سے چند حضرات یہ ہیں: (۱) ابومروان اندلسی، (۲) علی بن محمد خراسانی، (۳) حسین بن محمد (۴) داؤد بن قفال سنجروری (۵) عبدالوہاب بن اسماعیل صوفی (۶) محمد عجمی (۷) ابوبکر مقدسی (۸) ہمام الدین شہرقندی اور موسیٰ بن مجلی صوفی۔

ان حضرات سے بہت سی احادیث مروی ہیں جن کی تعداد چار سو سے بھی متجاوز ہیں انہیں میں سے ”رتنیات ثابتات“ ہیں، جن کی تعداد ۴۰ ہیں۔ دراصل احادیث رتنیات کا اکثر حصہ بابا کے حالات زندگی پر، اور کچھ احادیث رسول پر مشتمل ہے، جن کا ذکر یہاں پر مقصود نہیں ہے۔ البتہ علامہ گیلانی نے بڑی جفاکشی اور حسن اسلوبی سے ”حالات پر مشتمل احادیث“ کے مضمون کا خلاصہ کیاہے جو یہاں ”من وعن“ پیش خدمت ہے۔

(۱) ”رتن ایک ہندوستانی آدمی تھا، وہ نسلاً بت پرست تھا، (۲) اس کی عمر خلافِ عادت بہت زیادہ دراز ہوئی (۳) پہلے عیسائی ہوا، (۴) پھر مسلمان ہوا (۵) آں حضرت صلى الله عليه وسلم کی صحبت سے نوازا گیا (۶) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی میں ”مدینہ“ میں موجود تھا وہاں ناچا بھی، گایا بھی، (۷) غازی تھا، جنگ خندق کے علاوہ یہودیوں کے خلاف بعض جہاد میں شریک تھا، (۸) تمام صحابہ میں اس کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ اس نے آں حضرت صلى الله عليه وسلم کو اپنی گود میں اٹھایا شاید یہ شرف کسی کو حاصل نہیں (۹) حضور صلى الله عليه وسلم کے سامنے اس نے املی کا تحفہ پیش کیا (۱۰) حضور صلى الله عليه وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کو کھجوریں دیں، اپنے دست مبارک سے اس کی پیٹھ ٹھونکی، درازیٴ عمر کی دعا دی (ماخوذ: ایک ہندوستانی صحابی،ص:۳۵) پھر حالات پر مشتمل روایات کے راویوں پر تبصرہ کیا ہے؛ تاکہ روایات کا ضعف؛ بل کہ ان کا وضع کھل کر سامنے آجائے۔

علامہ موصوف نقد کرتے ہوئے فیصلہ سناتے ہیں کہ ”بابا رتن“ کی روایات ”ہمام الدین شہرقندی“، اور ”موسیٰ بن مجلی صوفی“ سے زیادہ تر ہیں، صرف تین سو احادیث کا راوی ”موسیٰ بن مجلّی“ ہے جن میں وہ چالیس احادیث جو ”رتنیات ثابتات“ سے موسوم ہیں، ان میں شامل ہیں، اس صوفی کے بارے میں علامہ ذہبی نے لکھا ہے: کہ ”وأظَنُّ أنَّ ہٰذہ الخُرافاتِ مِنْ وَضْعِ ہٰذَا الجَاہِلِ ”موسیٰ بن مُجَلّٰی“ (اصابہ،ص:۱۹۰) میرا گمان ہے کہ ”بابا رتن“ کی طرف جو حدیثیں واہیات منسوب ہیں، وہ اس جاہل گنوار کی ہیں۔ (ایک ہندوستانی صحابی،ص:۳۵)

حق بات یہ ہے کہ ”بابارتن“ سے روایت کردہ وہ احادیث جو ان کے احوال و کوائف پر مشتمل ہیں وہ اتنی متضاد ہیں کہ اُن سے کوئی بات اخذ نہیں کی جاسکتی؛ اسی وجہ سے آپ کی عمر کی تعیین نہیں ہوسکی اسی تضاد اور اختلاف کی وجہ سے آپ سے صحابیت سے ہم دردی جتلانے والے ”مولانا عبدالصمد صارم“ بھی تضاد بیانی سے پریشان ہوکر یہ کہنے پر مجبور ہیں ”کہ ان کے متعلق جو ایک چند روایات ہیں، ان میں بے حد تضاد ہے اور تاریخ اعتبار سے کوئی بھی صحیح بات ثابت معلوم نہیں ہوتی، ان تمام روایات کا مرکز ”موسیٰ بن مجلّی صوفی“ ہے جس کے بارے میں امام ذہبی نے لکھا ہے کہ یہ روایات اس جاہل کی وضع کردہ ہیں۔“ (جہان کتب:۲۵) اور ہمام الدین شہرقندی اکثر ”ماہرین اسمائے رجال“ کے یہاں ضعیف ہے۔

بابا رتن کی وہ روایات جو احادیث رسول پر مبنی ہیں، ان کے بابت علماء محدثین کا خیال ہے کہ وہ موضوع ہیں اِنھیں علماء محدثین کی طرف سے وکالت کرتے ہوئے علامہ گیلانی فیصلہ سناتے ہیں کہ اُس نے آپ صلى الله عليه وسلم کی حدیثیں بھی روایت کی، جن میں اکثر صراحتاً موضوع اور مختلق ہیں“ (ایک ہندوستانی صحابی،ص:۳۵)

بابا رتن کی تمام تر روایات علامہ ذہبی نے ایک جزو میں جمع کردی ہیں اور حافظ ابن حجر نے اپنی کتاب ”اصابہ میں بھی بعض نقل کی ہیں اسی طرح کچھ احادیث کو علامہ گیلانی نے اپنی کتاب ایک ہندوستانی صحابی“ میں درج کیاہے۔ وہاں دیکھی جاسکتی ہیں۔

بابا رتن کا سب سے زیادہ اختلافی گوشہ ان کی صحابیت کا ہے۔ یہاں بالتفصیل ان کی صحابیت کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ ”بابارتن“ کے ”دعویٰ صحابیت“ کے سلسلے میں علماء کا شدید اختلاف ہے، کچھ لوگوں نے انھیں صحابی ہونا تسلیم کیاہے، تو کچھ لوگوں نے اپنی غیرت اسلامی، حمیت ایمانی اور تقدس صحابہ کو پیش رکھ کر انکار کیا ہے اور ان کولاغی، کذاب،اور دجّال تک کہا ہے۔ یہ سلسلہ ساتویں صدی سے اب تک چلا آرہا ہے اور لوگوں نے اپنی اپنی کتابوں میں اس کو جگہ دی ہے۔

”اصابہ“ میں لکھا ہے کہ بابا صاحب کی صحابیت کا سب سے پہلے انکار کرنے والے حافظ شمس الدین ذہبی ہیں۔ علامہ موصوف نے اپنی کتاب ”میزان“ میں اس مسئلہ کو بڑی بسط وتفصیل سے لکھاہے؛ بلکہ انھوں نے ان کی صحابیت کی تردید میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے، جس کانام ”کِسرُ وثن رتن“ رتن نامی بت کی شکستگی ہے جس میں وہ خوب خوب برسے ہیں اور عجیب وغریب تردیدی کلمات استعمال کیے۔

کذاب، دجّال، جھوٹا، فریبی، بڈھا، شیطان بشکل انسان سب کچھ کہہ ڈالا بلکہ رتن صاحب سے اتنے زیادہ نالاں ہیں کہ انھوں نے اپنے رسالے ”کِسْرُ وَثْنِ رتن“ کی ابتدا ان الفاظ سے کی ہے بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم، سبحانک ہذا بُہتَانٌ عظیمٌ اور خاتمے میں فرماتے ہیں فما ذا بعد الحق الا الضلال پھر لکھا ہے کہ اگر رتن ہندی واقعی شخص ہے تو پھر یہ شیطان ہے جو انسانی صورت میں ظاہر ہوا درازیٴ عمر اور صحبت نبوی کا دعویٰ کیا تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے (کسروثن رتن بحوالہ ایک ہندوستانی صحابی) ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ ”اس گمراہ بڈھے نے لوگوں کو گمراہ کرکے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالیا (حوالہ مذکورہ) علامہ ذہبی رتن ہندی کے بارے میں ایک نادر خیال کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”زنادقہ نے ایک فرضی نام رکھ کر اس کی طرف سے حدیثیں منسوب کردی ہیں“ (حضرت، رتن سنگھ)

علامہ موصوف نے جو کچھ لکھا یا کہا ہے اور ان کے بارے میں جو ان کا خیال ہے وہ سب ایسے ہی نہیں ہے بلکہ انھوں نے حدیث اور تاریخی حقائق کو سامنے رکھ کر کہی ہیں، کیوں کہ سات سو سال (۷۰۰) تک کسی صحابی کا زندہ رہناقطعی طور پر مستبعد ہے؛ اس لیے کہ حدیث شریف میں ہے آپ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: ”أرئیتُم لیلتّکُم ہٰذہ فانّہ علٰی رأس مِأة سَنةٍ لا یبقٰی علی وجہ الأرض مِمَّنْ ہُو الیَوم عَلیہا أحدٌ“ (ابن ماجہ) کہ تم لوگ اس رات کو دیکھ رہے ہو ایک صدی بعد تم میں سے کوئی بھی سطح زمین پر باقی نہیں رہے گا۔

پھر تاریخی حوالوں سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ ساتویں صدی میں ہندوستان میں مسلمان فاتح بن کر آئے اور یہاں کی حکومت ان کے زیر قیادت رہی، انھوں نے علم وعمل کی قندیلیں روشن کیں؛ جن سے افادہ استفادہ کی راہیں ہم وار ہوئیں، بابا اگر واقعی صحابی تھے تو یہ حضرات ان سے ملاقاتیں کرتے مگر تاریخ اس سے خاموش ہے بالخصوص: غزنی خاندان علم اور اہل علم کا دلدادہ تھا مگر ان کے زمانے میں بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔

چوتھی صدی میں محمود سبکتگین نے ہندوستان پر لگاتار حملے کیے اور ملک میں گھسے مگر ان کے متعلق کوئی خبر نہیں ملی، مہدی، منصور، مامون الرشید، ہارون الرشید وغیرہ کے ہندوستان سے اچھے روابط تھے اگر بابا صاحب کا وجود ہوتا تو ضرور ان لوگوں کو اس کی اطلاع ملتی۔ الغرض : یہ وجوہ ہیں جن کی وجہ سے حافظ ذہبی بابا پر سخت نالاں ہیں؛ لیکن علامہ ذہبی کے خاص تلمیذ علامہ صفدی نے اپنی مشہور تاریخی کتاب ”الوافی الوفیات“ میں ان کا تذکرہ کیا ہے اور اپنی طرف سے ان کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، البتہ آخر میں حافظ ذہبی کے نقد و تبصرہ کو مختصر الفاظ میں نقل کیا ہے جس سے ان کی رائے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

بعد کے علماء میں حافظ ابن حجرعسقلانی، علامہ مجددالدین فیروز آبادی، شیخ علاء الدین اشرف سمنانی کچھوی، خواجہ محمد پارسا وغیرہ نے بھی ”بابارتن“ کا ذکر اپنی کتابوں میں کیاہے۔ آئین اکبری میں ابوالفضل لکھتے ہیں کہ: ”ابن حجر عسقلانی، مجددالدین فیروزآبادی، شیخ علاؤ الدین سمنانی، خواجہ محمد پارسا ازو نیکو پذیرند وستائش گردند“ آئین اکبری کی یہ عبارت ”بابا رتن“ کو صحابی ماننے والوں کے لیے سب سے بڑی دلیل ہے، اسی عبارت کو مولانا صارم صاحبرحمة الله عليه نے معیارِ سند بناکر علامہ گیلانی کی تحقیق کو ناقابل سماعت قرار دیا ہے؛ چنانچہ وہ اپنے مقالے ”حضرت رتن سنگھ صحابی“ میں رقم طراز ہیں ”ہندوستانی علماء میں رتن پر سب سے پہلے لکھنے والے مناظر احسن گیلانی نے ایک مضمون لکھا مگر انھوں نے تحقیق کی زحمت گوارا نہ کی، علامہ ذہبی پر بھروسہ کرتے ہوئے انہیں سب کچھ لکھ گئے حالانکہ رتن ایسے نہ تھے جیساکہ ذہبی نے بیان کیا ہے، رتن کو بڑے بڑے لوگوں نے ثقہ صحابی مانا ہے، ذہبی کے ہم عصر علامہ صفدی نے ان روایات وعقائد کی تردید کی ہے۔ (حضرت رتن سنگھ صحابی) ایک جگہ تو ذہبی رحمة الله عليه کو آڑے ہاتھوں لیا ہے، تبصرہ ملاحظہ ہو کہ ”رتن ہندوستانی شخص تھے ان کے متعلق تحقیقات ہندوستان میں ہونی چاہئے تھی، لوگوں کی بیان کردہ روایات پر بغیر تحقیقات کیے، مناسب نہ تھا کہ انھیں دجّال، کذّاب لکھا جائے پھر انھیں سے ہمدردی بھی جتلاتے ہیں کہ ”ذہبی کیا کرتے ان کا ہندوستان سے تعلق کیا تھا؟“ (حوالہ مذکورہ) (نوٹ: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولانا صارم صاحب نے صفدی کی کتاب الوافی الوفیات کا مطالعہ کئے بغیر اپنے ذہنی تاثرات کو ان کی جانب منسوب کردیا ہے ”از مرتب“)

مذکورہ بالا سطور سے معلوم ہوگیا کہ مولانا عبدالصمد صارم رتن صاحب کو صحابی ماننے میں ابوالفضل کی عبارت کو حرف آخر تسلیم کرتے ہیں اور ذہبی جیسے پائے کے محقق کی تحقیق کو غیرمعتبر مانتے ہیں؛ بلکہ ان کا یہ فیصلہ ہے ”کہ وہ ثقہ صحابی ہے“۔

دوسری طرف علامہ گیلانی کو ابوالفضل کی صداقت وعدالت پر شک ہے، انھوں نے اپنے رسالے میں ابوالفضل کے بارے میں لکھا ہے کہ ”افسوس ہے کہ اس روایت کو بیان کرنے والا اکبر کے دربار کا منشی ہے جس پر صداقت پروری سے زیادہ کذب فروشی کا گمان ہے، خصوصاً جب ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ابوالفضل فن تاریخ سے بالکل کورا تھا“ (ایک ہندوستانی صحابی:۳۸)

اس سلسلے میں ایک اور ہندوستان کے عالم مولانا نجم الغنی صاحب رامپوری ہیں جنھوں نے ابوالفضل کی اس عبارت کا بالتفصیل جواب دیا ہے، وہ اپنی کتاب ”تعلیم الایمان“ شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں کہ شیخ علاؤالدین، شیخ رضی الدین، یا خواجہ محمد پارسا نے اس کے دعویٰ (صحابیت) کو تسلیم کیاہے، ان بزرگوں کا قبول کرلینا قابل حجت نہیں ہے، اگرچہ یہ لوگ صاحب کرامات، وعابد، ومتقی تھے مگراحوالِ رجال میں ان کو معرفت نہ تھی اورانھوں نے یہ دعوی نہیں کیاہے کہ ہم کو روحِ پاک صلى الله عليه وسلم سے معلوم ہوا ہے کہ رتن اپنے قول میں سچا ہے، اورنہ ابن حجر اور فیروز آبادی کا مان لینا محققین کے جم غفیر کے انکار کے سامنے قابل سند ہے، تمام علماے حدیث نے اِس کی احادیث کو رد کردیا ہے اورکبھی کسی واقعہ کے متعلق حدیث وسیرت کی کتابوں میں اس کا ذکر کسی حدیث یا قصے میں نہیں ہے۔(تعلیم الایمان،ص:۳۱۲)

خیر یہاں پر ”بابا رتن ہندی“ کے حالاتِ زندگی اور ان کی صحابیت پر علماء کی آراء واختلاف ان کے دلائل سمیت ختم ہوئے۔ علماء کے انکار و تردید یا تائید و توثیق سے فیصلہ کن بات سامنے نہیں آئی؛ اس لیے کوئی فیصلہ کرنامناسب معلوم نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس سلسلے میں علامہ گیلانی کا فیصلہ کہ ”ناظرین خود غور کرلیں کہ وجوہات کس کے قوی ہیں اوراس علمی معرکہ میں کھیت کس کے ہاتھ میں ہے“ بالکل بجا معلوم ہوتا ہے۔ تاہم چند معروضات پیش کی جارہی ہیں جن کی روشنی میں زیر بحث مسئلہ کی تنقیح ہوسکتی ہے۔

(۱) اگر آپ واقعی صحابی ہیں؛ تو علماء اسمائے رجال نے آپ کا تذکرہ اپنی کتابوں میں کیوں نہیں کیا؟ جبکہ ہندی تابعین و تبع تابعین کے احوال اور اُن کے کارناموں کے نقوش اسمائے رجال کی کتابوں میں ثبت ہیں۔ کیا یہ کہا جائے، کہ یہ تعصب پر مبنی ہے؟

(۲) آخری صحابی حضرت ابوالطفیل رضى الله تعالى عنه ہیں جن کی وفات دوسری صدی کے بالکل اوائل میں ہوئی، تو سوال یہ ہے کہ صحابہ اگر رتن کو صحابی جانتے تو صحابہ کرام و تابعین سے بیان کرتے اور تابعین حضرت ابوالطفیل رضى الله تعالى عنه کو آخری صحابی نہ سمجھتے۔

(۳) آپ کا یہ کہنا ”کہ میں حضرت فاطمہ رضى الله تعالى عنها کی شادی میں موجود تھا“ یہاں یہ سوال پیدا کررہا ہے کہ حضرت فاطمہ رضى الله تعالى عنه کی شادی کے موقع پر کیا ایک لمبا چوڑا شادی کا پروگرام تھا کہ شرکت کرنے والوں کی کثرت کی وجہ سے کوئی ”بابا“ صاحب کو پہچان نہ سکا اور ان کا نام سیروحدیث میں جگہ نہ بناسکا؟

(۴) ”بابا صاحب“ کی غزوئہ احزاب، اور دوسرے غزوات میں شرکت ہوئی، پھر ان کی شرکت کا ثبوت سیر وتاریخ میں نہیں ملتا۔ ایسا کیوں؟

(۵) آخری زمانے میں نبی اکرم کے پاس غیر ملکی وفد بکثرت آتے تھے آپ، ان کو تعلیم دیتے تھے وہ واپس جاکر اپنے یہاں تعلیم وتبلیغ کی قندیلیں روشن کرتے تھے، تاریخ ہند بابا صاحب کی ایسی تحریکی تگ ودَو سے ناواقف کیوں ہے؟ پھر عرب وہند کے مابین اقتصادی لائن سے اچھے روابط تھے اور صحابہ باہر سے آنے والے لوگوں کا اکرام کرتے اور ان سے ان کے ملکی احوال معلوم کرتے پھر حدیث کے تحت ان کو بیان فرماتے تھے سوال یہ ہے کہ صحابہ سے ”ان کو بتائی جانے والی تعلیم“ اور ان کی حاضری پردئہ خفا میں کیوں رہ گئی؟

(۶) ”واپسی کے بعد،ایک پیپل کے درخت پر جاکر بیٹھ گئے اور صدیوں بیٹھے رہے۔“ دل میں کھٹکتی بات یہ ہے کہ سات صدی تک آدمی کیسے بیٹھا رہے گا جبکہ انسان کے لئے حرکت، آرام، نیند، تھکاوٹ، آپسی میل ملاپ اور اشیائے خورد ونوش وغیرہ انتہائی ناگزیر ہیں، ان کے بغیر ”بابا“ کیسے زندہ رہ گئے؟ علاوہ ازیں ہندوستان بہت سے مذاہب کا گہوارہ ہے یہاں کی بعض قومیں ”پیپل“ کے پرستار ہیں،اور پھر بزرگوں اور ان کی نادرالوجود چیزوں سے عقیدت ومحبت اور ان جگہوں پرحاضری دینا ہندوستانیوں کا ہمیشہ کا شیوہ رہا ہے، ”کیا پیپل کی عدم تعیین“ پرستارانِ درخت یا ’عقیدت مندوں“ کی جہالت پر مبنی ہے؟

(۷) ”زمین پر سوسال تک زندہ رہنے والی حدیث“ کی استثنائی صورت کسی ”دوسری حدیث“ یا ”قولِ صحابی“ سے ہی تسلیم ہوگی۔

(۸) سلاطین ہند کا ”بابا رتن“ سے چشم پوشی کرنا بعید از قیاس ہے۔

(۹) بابا صاحب کی وہ روایات جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی طرف منسوب ہیں تمام علماء حدیث حتیٰ کہ خود مولانا صارم کے نزدیک بھی مختلق اور موضوع ہیں؟ اس طرح کا واقعہ صرف بابا کے ساتھ پیش آیا یہ تو ایک نادر الوجود چیز ہے جو”بابا“ کے ساتھ ہیں پیش آئی، کیا اس سے ”بابا“ کی صحابیت شک کے دائرے میں نہیں آتی؟

الغرض: اس طرح کی چند اور بنیادی باتیں ہیں جو ان کے دعوائے صحابیت کو مخدوش بنادیتی ہیں اور محقق ذہبی کے فیصلہ کی تائید و توثیق کرتی ہیں ـــ


حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری قدس سرہ


 حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری قدس سرہ
خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی اصل وطنی نسبت سجزی ہے.. سجزی نسبت سجستان کی طرف ہے .قدیم جغرافیہ نویس عام طور پر اس کو خراسان کا ایک حصہ مانتے ہیں. موجودہ زمانے میں اس کا اکثر حصہ ایران میں شامل ہے اور باقی افغانسان میں...
(از تاریخ دعوت و عظیمت ٣/٢٤ حاشیہ بحوالہ احسن التقاسیم )
آپ کی پیدائش باتفاق اھل تواریخ ٦٣٧ھ ایران کے علاقہ سیستان قصبہ سنجر میں ہوئی آپ ھندوستان کے امام الطریق تھے آپ ہی سے ھندوستان میں علوم معرفت کا افتتاح ہوا اور سلسلہ چشتیہ ھندوستان میں آپ ہی سے پھیلا اور ھندوستان میں نوے لاکھ آدمی آپ کے ہاتھ پر اسلام لائے.
آپ کا نسب گیارہ پشت پر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر ملتا ہے .
آپ کے کمالات بحر لامتناہی ہیں حتی کہ کہتے ہیں کہ جس پر نظر ڈالتے تھے وہ صاحب معرفت ہوجاتا تھا.
علوم ظاہریہ و باطنیہ دونوں میں کمال حاصل تھا.آپ کی عمر پندرہ سال کی تھی تب آپ کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا..
        سلوک کی ابتداء
تقسیم وراثت میں آپ کے حصہ میں ایک باغ آیا اس کی نگرانی آب پاشی وغیرہ خاص طور سے فرماتے تھے.ایک مرتبہ اس میں مشغول تھے کہ ایک مجذوب ابراھیم قہنذری باغ میں تشریف لائے. حضرت شیخ نے ان کی بڑی تعظیم و تکریم کی اور ان کے لئے کچھ انگور اور کچھ پھل لیکر آئے.
ابراھیم مجذوب نے اپنے دانتوں سے چبا کر حضرت خواجہ کو دیا جس کو کھاتے ہی باغ میں ایک نور ظاہر ہوا اور حضرت خواجہ کی حالت دگرگوں ہوگئی. دنیا سےبالکل منقطع حق تعالی جل شانہ وعم نوالہ کی طرف خاص کشش پیدا ہوگئی.باغ وغیرہ فروخت کرکے فقراء کو تقسیم کردیا اور سفر کے لئے چل دئے اول سمرقند پہنچے وہاں حفظ قرآن اور تعلیم علوم ظاہری میں مشغول رہے اس سے فراغت کے بعد عراق تشریف لے گئے اور قصبہ ھارون میں پہنچکر خواجہ عثمان ھارونی سے بیعت ہوئے.
اور ایک ہی دن میں تکمیل ہوگئی. اور ساتھ ہی ساتھ حضرت شیخ کی توجہ سے سب علوم حاصل ہوگئے اور اس کے بعد امتثال امر کی وجہ سے بیس سال حضرت کی خدمت میں اور رہے....
پہر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم کی بنا پر ھندوستان (دس محرم ٥٦١ ھ) تشریف لائیں. اجمیر کی تعیین ظاہر ہے کہ ارشاد ہی سے کی ہوگی.
وہاں سب سے پہلے مرید میر حسین صاحب تھے جو اول مذھب شیعہ رکھتے تھے بعدہ اس سے تائب ہوکر حضرت سے بیعت ہوئے اور کمال حاصل کیا اس کے بعد ہزارہا خلقت داخل سلسلہ ہوئیں....
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی, حضرت بابا فرید الدین گنج شکر اور خواجہ نظام الدین اولیاء جیسے عظیم الشان پیران طریقت کے آپ مرشد ہیں ..
حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ھندوستان میں جو کچھ خدا کا نام لیا گیا اور اسلام کا کام کیا گیا وہ سب چشتیوں اور ان کے مخلص عالی ھمت بانی سلسلہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے حسنات اور کارناموں میں شمار کئے جانے کے قابل ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ اس ملک پر اس سلسلہ کا حق قدیم ہے
مولانا غلام علی آزاد نے صحیح لکھا ہے
"لا شک بزرگان چشت عنبر سرشت را حقی است قدیم بر ولایت ھند"
اس میں کوئی شک نہیں کہ بزرگان سلسلہ چشت کا ملک ھندوستان پر حق قدیم ہے.
اور صاحب سیر الاقطاب کا یہ لکھنا بھی صحیح ہے کہ ھندوستان میں ان کے دم قدم کی برکت سے اسلام کی اشاعت ہوئی اور کفر کی ظلمت یہاں سے کافور ہوئی..
(سیر الاقطاب ١٠١)
(تاریخ دعوت و عظیمت ٣/٢٩ بحوالہ ماثرا الکرام ٧)
حضرت کثیر المجاھدہ تھے ستر سال تک رات کو نہیں سوئے آپ کے کمالات و کرامات تحریر سے باہر ہیں.
آپ کے کمالات کی انتہاء ہے کہ آپ کے شیخ آپ کی بیعت پر فخر فرماتے تھے..
          جود وسخا
حضرت خواجہ قطب الدین سے نقل ہے کہ میں بیس سال حضرت کی خدمت میں رہا ہوں کبھی کسی کو حضرت نے انکار نہیں کیا جب کوئی شخص کچھ مانگنے آیا حضرت مصلے کے نیچے ہاتھ ڈالکر جو اس کی قسمت کا ہوتا وہ اس کو مرحمت فرما دیتے. غریبوں کی بندہ پروری کرنے کے عوض عوام نے آپ کو غریب نواز کا لقب دیا آپ کا یہ بھی بیان ہے کہ میں اس عرصہ میں حضرت کوغصہ ہوتے نہیں دیکھا.
           ارشادات
آپ کا مقولہ ہے کہ معرفت حق کی علامت ہے کہ خلقت سے بھاگنے لگے..
فرمایا کرتے تھے کہ اھل معرفت کی عبادت پاس انفاس ہے.
اور شقاوت کی علامت یہ ہے کہ آدمی مبتلائے معصیت ہو اور پھر بھی اپنے آپ کو مقبول سمجھے.
             وفات
آپ کی وفات سلطان التمش کے دور میں ہوئی اور تاریخ وفات بقول جمہور اھل تاریخ ٦ رجب یوم دو شنبہ ہے. بعض.لوگوں نے ٣٠ ذی الحجہ کہا ہے مگر صحیح پہلا قول ہے. مزار شریف اجمیر میں ہے....
(از تاریخ مشائخ چشت حضرت شیخ زکریا نور اللہ مرقدہ )
شجرہ چشتیہ نعمانیہ.ملاحظہ ہوں
١) حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
٢) حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ
٣) حضرت سیدنا حسن بصری
٤) حضرت سیدنا عبد الواحد بن زید
٥) حضرت سیدنا فضیل بن عیاض
٦) حضرت سیدنا ابراھیم بن ادھم
٧) حضرت سیدنا حزیفہ مرعشی
٨) حضرت سیدنا امین الدین ابو ھبیرہ
٩) حضرت سیدنا ممشاد علوی دینوری
١٠) حضرت سیدنا ابو اسحاق شامی
١١) حضرت سیدنا ابو احمد ابدال چشتی
١٢) حضرت سیدنا ابو محمد محترم چشتی
١٣) حضرت سیدنا ابو یوسف چشتی
١٤) حضرت سیدنا مودود چشتی
١٥) حضرت سیدنا شریف زندنی
١٦) حضرت سیدنا عثمان ھارونی
١٧) حضرت سیدنا معین الدین حسن سجزی چشتی اجمیری
      (رحمھم اللہ تعالی )
(از شجرہ نعمانیہ حاجی قطب الدین ملا)
فقط واللہ تعالی اعلم
(اللہ تعالی ان حضرات کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائیں اور ہم تمام کو ان کے باطنی و روحانی فیوض سے مستفیض فرمائیں آمین )


خواجہ خواجگان حضرت خواجہ سید محمدبہاؤ الدین نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ


خواجہ خواجگان حضرت خواجہ سید محمدبہاؤ الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ
(از: مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی قادری،نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر )
فخرالعلماء والمحدثین حضرت ابو الحسنات رحمۃ اللہ علیہ گلزار اولیاء میں رقم طرازہیں:
آپ کی ولادت شریف ماہ محرم 718 ھ میں ہوئی، بچپن ہی سے آپ سے کرامات ظاہر ہونے لگے ،آپ امام طریقت اور پیر حقیقت مقتدائے شریعت اور پیشوائے اہل سنت والجماعت ہیں ۔آپ کا سلسلۂ نسب یہ ہے حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند بن سید محمد بخاری بن سید جلال الدین بن سید برہان الدین بن سید عبداللہ بن سید زین العابدین بن سید قاسم بن سید شعبان بن سید برہان الدین بن سید محمود بن سید بلاق بن سید تقی صوفی خلوتی بن سید فخرالدین بن سید علی اکبر بن امام حسن عسکری بن امام علی نقی بن امام محمد تقی بن موسیٰ رضابن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفرصادق رضی اللہ عنہم اجمعین اَفَاضَ اللہ علینا من برکاتہم۔
آپ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب رکھتے تھے ، اکثر مشائخ اس طریقۂ عالیہ کے حنفی مذہب ہوئے ہیں ، آپ کو روحانی فیض خواجہ محمد باباسماّسی قدس سرہ سے حاصل ہوا ہے گو تعلیم طریقہ امیرکلال قدس سرہ سے ہے اور حقیقت میں اویسی روحانیت عبدالخالق غجدوانی قدس سرہ سے آپ نے حاصل کی ہے ، خواجہ محمود انجیر فغنوی قدس سرہ سے خواجہ امیرکلال قدس سرہ تک جو حضرات اس طریقہ عالیہ کے رہبر ہوئے ہیں وہ سب ذکر جہری وخفی دونوں کیا کرتے تھے ،جب خواجہ بہا ؤ الدین نقشبند قدس سرہ کا دور مبارک آیا تو عبد الخالق غجدوانی قد س سرہ کی روح مبارک سے ارشاد ہوابابا بہاء الدین تم ذکر جہری چھوڑ دو ، ہمیشہ ذکر خفی کیا کرو، جب سے آپ نے اپنے طریقہ عالیہ میں ذکرخفی لازم فرمادیا-۔کسی نے حضرت شاہ نقشبند قدس سرہ سے پوچھا کہ آپ کے طریقہ عالیہ میں نہ ذکر جہری ہے اورنہ خلوت تو پھر آپ کے طریقہ کی بنا کس چیز پر ہے؟ فرمایا ظاہر باخلق باطن باحق ،دست بکار دل بیار(ظاہر خلق کے ساتھ رہے اورباطن بھی حق کے ساتھ۔ ہاتھ تو کاروبارکرتے رہیںاوردل اللہ کی طرف متوجہ رہے)پر ہمار ے طریقہ کی بنا ء قائم ہے ۔
پھر آپ نے یہ شعرپڑھا
از دروں شو آشنا وازبروں بیگانہ وش
کاین چنین زیبا روش کم می بود اندر جہاں
ترجمہ: باطن میں آشنابناہوارہ اورظاہرمیں بیگانوں کی طرح کہ یہ بہترین طریقہ دنیا میں بہت کم ہوتاہے۔
ایک مرتبہ آپ نے دیکھا کہ ایک گرگٹ آفتاب کے جمال جہاں آرامیں مستغرق ہے اس کے روبرو آپ باادب ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا اے اپنے محبوب آفتاب کے جمال میں محوومستغرق ہونے والے گرگٹ ! خدا کےلئے میرے حق میں دعاکرکہ جو شہود اور استغراق تجھ کو تیرے محبوب آفتاب کے ساتھ حاصل ہے ویسا شہود اور استغراق میرا محبوب حقیقی خدا مجھ کو اپنے ساتھ دے ابھی آپ یہ نہیں کہنے پائے تھے کہ گرگٹ آپ کی طرف متوجہ ہوکر آسمان کی طرف منہ کیا ہوا بہت دیرتک ایسا ٹھیرا رہا گویا دعاکررہا ہے جب تک وہ دعامیں تھا ، آپ آمین کہتے جاتے تھے ، جب سے آپ کامشاہدہ او ربھی قوی ہوگیا ، اللہ اللہ ! کیا بے نفسی تھی سچ ہے عارف مثل مستسقی کے ہوتے ہیں سب کچھ مل جاتا ہے پھر پیاسے کے پیاسے ہی رہتے ہیں ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم کی پوری پوری اتباع کرکے رات دن رب زدنی علما کا ہی ورد ر کھتے ہیں ، آپ کی وفات شب دوشنبہ ۳ ربیع الاول 791 ھ میں ہوئی ، آپ کی قبرشریف قریہ قصرِعارفان میںہے جو بخاراسے بہت ہی قریب ہے۔(گلزار اولیاء مؤلفہ حضرت محدث دکن رحمۃاللہ علیہ ص19تا21)
??نقشبند کی وجہ تسمیہ? ?
جس وقت آپ حضر ت خواجہ مولانا زین الدین کی ملاقات کے لئے تشریف لے گئے توصبح کی نماز کے بعد مولانا اوراد جہریہ میں مشغول ہوئے اور حضرت خواجہ بھی آکر بیٹھ گئے، مولانا نے فرمایا کہ اے خواجہ ہمارا نقش بھی باندھو، یعنی ہمارے حال پر توجہ فرمائیں، حضرت خواجہ نے بطورتواضع کے جواب دیا کہ ہم خود نقش بننے کےلئے آئے ہیں۔ اس کے بعد مولانا آپ کومکان پر لائے اور آپکی ضیافت کی اور دونوں کی باہم بڑی صحبت رہی ،تین دن تک آپ نے ان پر توجہ فرمائی غالبا اسی روز سے آ پ کا لقب نقشبند ہوا ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ چونکہ آپ کی پہلی ہی صحبت میں ماسوا کا نقش سالک کے دل سے مٹ جاتا ہے اس لئے آپ نقشبند کے لقب سے مشہور ہوئے ہوں ۔(حضرات القدس دفتراول ص165/166)
حضرت خواجہ کے اعمال اداء نوافل کے بارہ میں حضرت مولانا یعقوب چرخی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ میں اس طرح بیان کیا ہے کہ آپ تہجد کی نمازبارہ رکعتیں چھ سلام سے پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ نماز حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض رہی ہے اور آخر میں نفل ہوگئی ہے اور بعض علماء نے کہا ہے کہ ہمیشہ فرض رہی نفل نہیں ہوئی۔(حضرات القدس دفتراول ص 167)
شجرہ شریف و سلسلہ عالیہ
خاندان نقشبندیہ مجددیہ فضلیہ غفاریہ بخشیہ طاہریہ
حضرت محبوب کبریا سید الانبیاء خاتم المرسلین شفیع المذنبین امام الاولین و الاٰخرین
سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ
علیہ و علیٰ الہ افضل الصلوات و اکمل التحیات
وصال شریف بعمر 63 سال، 12 ربیع الاول سنہ 11ھ۔ آرام گاہ گنبذ خضرا، مدینہ منورہ، سعودی عرب
1حضرت خلیفہ بلا فصل سید البشر بعد الانبیاء امیر المؤمنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہسیرت22 جمادی الثانی، 13ھ بعمر 63 سالگنبذ خضرا، مدینہ منورہ، سعودی عرب
2حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہحالات10 رجب 33ھمدائن، عراق
3حضرت فقیہ اعظم سیدنا قاسم بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہمحالات24 جمادی الثانی 101ھ یا 106ھ یا 107ھسعودی عرب
4حضرت امام العارفین شیخ المحققین امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہحالات15 رجب 148ھمدینہ منورہ، سعودی عرب
5حضرت سلطان العارفین خواجہ بایزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات15 شعبان 261ھبسطام، ایران
6حضرت خواجہ ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات10 محرم 425ھخرقان، ایران
7حضرت خواجہ ابوالقاسم گرگانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات23 صفر 450ھ
8حضرت خواجہ ابوعلی فارمدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات4 ربیع الاول 511ھ یا 477ھمشہد، ایران
9حضرت خواجہ ابویوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات27 رجب 535ھمرو
10حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح12 ربیع الاول 575ھبخارا، ازبکستان
11حضرت خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات1 شوال 616ھریوگر نزد بخارا، ازبکستان
12حضرت خواجہ محمود انجیرفغنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات17 ربیع الاول 715ھانجیرفغنہ نزد بخارا، ازبکستان
13حضرت خواجہ عزیزان علی رامیتنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات27 رمضان 715ھ یا 721ھخوارزم
14حضرت خواجہ بابا سماسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات10 جمادی الثانی 755ھسماس، نزد بخارا، ازبکستان
15حضرت خواجہ امیر کلال سید شمس الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات2 جمادی الثانی 772ھسوخار، نزد بخارا، ازبکستان
16حضرت شیخ المشائخ خواجہ شاہ بہاء الدین نقشبند بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات3 ربیع الاول 791ھبخارا، ازبکستان
17حضرت خواجہ علاؤ الدین عطار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات20 رجب 804ھجفانیاں، از ماوراء النہر
18حضرت خواجہ یعقوب چرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات5 صفر 851ھہلغنون، تاجکستان
19حضرت خواجہ عبیداللہ احرار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات29 ربیع الاول 895ھسمرقند، ازبکستان
20حضرت خواجہ محمد زاہد وخشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح1 ربیع الاول 936ھوخش، نزد بخارا، ازبکستان
21حضرت خواجہ درویش محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح19 محرم 970ھاسقرار، ترکی
22حضرت خواجہ محمد امکنگی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح22 شعبان 1008ھامکنہ، نزد بخارا، ازبکستان
23حضرت خواجہ محمد باقی باللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات25 جمادی الثانی 1012ھقطب روڈ، دہلی، ہندوستان
24حضرت شیخ المشائخ امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح28 صفر 1034ھسرہند شریف، ہندوستان
25حضرت خواجہ محمد معصوم فاروقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات9 ربیع الاول 1079ھسرہند شریف، ہندوستان
26حضرت خواجہ سیف الدین فاروقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات19 یا 26 جمادی الاول 1096ھسرہند شریف، ہندوستان
27حضرت خواجہ محمد محسن دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہحالات دہلی، ہندوستان
28حضرت خواجہ نور محمد بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح11 ذو القعدہ 1135ھدہلی، ہندوستان
29حضرت خواجہ مرزا مظہر جان جاناں شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح10 محرم 1195ھخانقاہ مظہریہ، دہلی، ہندوستان
30حضرت خواجہ شیخ المشائخ نقشبند ثانی شاہ غلام علی دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح22 صفر 1240ھ، بعمر 84 سالخانقاہ مظہریہ، دہلی، ہندوستان
31حضرت خواجہ ابو سعید فاروقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح1 شوال 1250ھخانقاہ مظہریہ، دہلی، ہندوستان
32حضرت خواجہ احمد سعید فاروقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح2 ربیع الاول 1277ھجنت البقیع، مدینہ منورہ، سعودی عرب
33حضرت خواجہ دوست محمد قندھاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح22 شوال 1284ھموسیٰ زئی شریف، ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان
34حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح22 شعبان 1314ھموسیٰ زئی شریف، ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان
35حضرت خواجہ محمد لعل شاہ ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح27 شعبان 1323ھدندہ شاہ بلاول، پنجاب، پاکستان
36 حضرت خواجہ محمد سراج الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح26 ربیع الاول 1333ھ بعمر 36 سالموسیٰ زئی شریف، ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان
37حضرت شیخ المشائخ محبوب الٰہی خواجہ غریب نواز پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح1 رمضان المبارک 1354ھ، بمطابق 28 نومبر 1935عمسکین پور شریف، ضلع مظفرگڑھ پاکستان
38حضرت قطب الاولیاء امام العارفین خواجہ محمد عبدالغفار المعروف پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح8 شعبان 1384ھ بمطابق 1964عرحمت پور شریف، لاڑکانہ، سندھ پاکستان
39حضرت شاہ شفقت ابر رحمت خواجہ اللہ بخش عباسی المعروف سوہنا سائیں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسوانح6 ربیع الاول 1404ھ بمطابق 12 دسمبر 1983ءاللہ آباد شریف، نزد کنڈیارو، سندھ پاکستان
40حضرت مجدد زمان شیخ العلماء و الاولیاء قطب العارفین شیخ المشائخ خواجہ محمد طاہر عباسی المعروف محبوب سجن سائیں مد ظلہ العالی و دامت برکاتہ علیناتعارفپیدائش: 1963
( 2010ء جماعت اصلاح المسلمین)
فقط واللہ اعلم.....


غوث اعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رح


غوث اعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ العزیز
پادشاہ مشائخ شیخ طریقت, امام شریعت, شرف زہاد,فخر عباد سید محی الدین عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اولیائے عالم کے سردار اور وہ مقدس و بزرگ ہستی ہیں جنھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو زندہ اور روشن کرکے آپ کی نیابت کا پورا حق ادا کردیا..
آپ کا نام نامی اسم گرامی عبد القادر, لقب محی الدین,کنیت ابو محمد,اور عرفیت غوث اعظم تھی.
والد ماجد کی طرف سے آپ کا نسب نامہ.
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی بن سید ابو صالح موسی جنگی دوست بن سید ابی عبد اللہ بن سید یحی الزاہد بن سید محمد بن سید داود بن سید موسی ثانی بن سید عبد اللہ ثانی بن سید الجون بن ابر عبد اللہ المحض بن سید حسن المثنی بن سیدنا امیر المؤمنین امام حسن بن سیدنا امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ.
آپ کی والدہ کی طرف سے نسب نامہ حسب ذیل ہے.
سیدتنا ام الخیر امۃ الجبار فاطمہ بنت سید عبد اللہ الصومعی الزاہد بن سید ابو جمال بن سید محمد بن سید محمود بن سید ابو العطا عبد اللہ بن سید کمال الدین عیسی بن سید ابو علاؤ الدین محمد الجواد بن سید علی الرضا بن سید موسی الکاظم بن سیدنا امام جعفر صادق بن سیدنا امام باقر بن سیدنا امام زین العابدین بن سیدنا امیر المؤمنین امام حسین بن سیدنا امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ.
اس نسب نامہ کے مطابق آپ حسنی و حسینی سیّد ہیں..
ولادت: ایک زرخیز قصبہ گیلان میں ہوئی.
تاریخ ولادت میں اختلاف ہے.
بعض ٤٧٠ھ اور بعض ٤٧١ھ لکھتے ہیں.
آپ کے مختصر حالات
بغداد میں ورود با مسعود
بغداد میں آپ نے وقت کے معروف مدرسہ نظامیہ میں داخلہ لیا اور وقت کے اساطین علم وعمل سے کسب فیض کیا ،چند ہی سال کے عرصے میں علوم اسلامیہ کے عالم بے بدل ہوگئے ، لیکن حدیث نبوی سے بے پناہ والہانہ لگاؤ تھا ، اسی لیے زندگی بھر بغداد میں درس حدیث دیتے رہے ۔
 آپ تا دم زیست متبع کتاب وسنت ، توحید کے علم بردار اور شرک وبدعات سے بری اور بیزار رہے ، آپ کا نعرہ تھا : لا معبود الا ﷲ ولا دلیل الا رسول ﷲ یعنی ﷲ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی حجت اور دلیل نہیں “۔
 جاہلوں اور نادانوں نے آپ کی زندگی میں ہی بہت سی کرامتوں کو آپ سے منسوب کردیا تھا ۔
 آپ کی کرامتوں کی شہرت سے متاثر ہوکر ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور سترہ سال آپ کی خدمت میں رہ کر علم وعمل سیکھتا رہا ، لیکن آپ کی زندگی میں وہ کرامتیں نہیں پائیں جن کی شہرت کا ڈنکا چہار دانگ عالم میں بج رہا تھا ، وہ مایوس ہوکر ایک دن اپنا بوریا بستر گول کررہا تھا کہحضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ وہاں پہنچ گئے اور فرمایا :” کہاں کا ارادہ ہے ؟“وہ کہنے لگا : ”حضرت ! آپ کی کرامتوں کی شہرت نے مجھے یہاں کھینچ لایا تھا ، لیکن سترہ سال کے عرصے میں میں نے کسی بھی کرامت کا مشاہدہ نہیں کیا ، اس لیے رخصت ہورہا ہوں “ آپ نے فرمایا : ”اس سترہ سال کے عرصے میں تم نے مجھے کوئی فرض چھوڑتے ہوئے دیکھا ہے ؟کیا کوئی سنت مجھ سے رہ گئی ہے ؟ کسی منکر یا مکروہ کو بجا لاتے ہوئے دیکھا ہے ؟کسی معروف سے کنارہ کشی کا مشاہدہ کیا ہے ؟ “
وہ کہنے لگا :” حضرت ! اس طرح کی کوئی بات میں نے آپ میں نہیں دیکھی “آپ نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے فرمایا : ” جا یہی میری سب سے بڑی کرامت ہے “۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ راہ ِ ہدایت پر استقامت سب سے بڑی کرامت ہے ،مشہور مفکر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی  رحمه الله  لکھتے ہیں :
 ” حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة ﷲ علیہ کی سب سے بڑی کرامت ، مردہ دلوں کو زندہ کرنا ، ان میں ایمان اور خشیت الٰہی کے بیج بونا اور مردہ دلوںمیں ایمانی حرارت پیدا کرناہے ، آپ کے ذریعے ﷲ تعالیٰ نے بے شمار انسانوں کو حیات ایمانی عطا فرمائی، آپ کے مواعظ حسنہ اور تربیت سے ایمان کی ایسی باد نسیم چلی کہ مردہ دلوں کو زندگی بخشی، بیمار دلوں کو شفا یابی بخشی اور آپ کے ذریعہ عالم اسلام میں ایمان ، تقویٰ اور اخلاق فاضلہ کی بہار آگئی۔ ﷲ تعالیٰ نے آپ کو عالم اسلام کی دینی اور روحانی سربراہی عطا فرمائی، اپنی دعوت کی نشر واشاعت کے لیے آپ نے بغداد کو چنا ، جو اس وقت خلافت عباسیہ کا پایہ تخت ، عالم اسلام کا دھڑکتا ہوا دل اور ساری دنیا میں سب سے بڑی آبادی والا شہر تھا ، صرف اسی بات سے ہی اس شہر کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کے وعظ وارشاد کی مجلسوں میں ستّر ہزار سے زیادہ لوگ شریک ہوتے تھے “۔( تاریخ دعوت وعزیمت )
 توحید کی دعوت
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة ﷲ علیہ نے ساری زندگی توحید کا درس دیا اور ساری انسانیت کو شرک ، بت پرستی ، قبر پرستی اور غیر ﷲ سے استغاثہ اور استمداد سے روکتے رہے ، فرماتے ہیں :
 (1) ” مخلوق کو خالق کے ساتھ شریک کرنا چھوڑ دے ، اور حق تعالیٰ کو یکتا سمجھ ، وہی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے ، اسی کے ہاتھ میں تمام اشیاءہیں، اے غیر ﷲ سے کسی چیز کے مانگنے والے ! تو بے وقوف ہے ، کیا کوئی ایسی چیز ہے جو اﷲ کے خزانوں میں نہ ہو ؟ ﷲ عزوجل فرماتا ہے :” کوئی بھی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں “ ( یعنی ہر چیز کے خزانے اس کے پاس ہیں ) “ ( فیوض یزدانی :مجلس نمبرا صفحہ 25)
 (2) ”بہادر وہی ہے جس نے اپنے قلب کو ما سوا اﷲ سے پاک بنایا اور قلب کے دروازے پر توحید کی تلوار اور شریعت کی شمشیر لے کر کھڑا ہوگیا کہ مخلوق میں سے کسی کو بھی اس میں داخل ہونے نہیں دیتا ، اپنے قلب کو مقلب القلوب سے وابستہ کرتا ہے ، شریعت اس کے ظاہر کو تہذیب سکھاتی ہے اور توحید ومعرفت باطن کو مہذب بناتی ہے“
( فیوض یزدانی :مجلس نمبر31 صفحہ 88)
 (3) ”تو کب تک مخلوق کو شریک خدا سمجھتا اور ان پر بھروسہ کرتا رہے گا ؟ تجھ پر یہ جاننا واجب ہے کہ ان میں سے کوئی بھی نہ تجھ کو نفع دے سکتا ہے نہ نقصان ، ان کا محتاج وتونگر اور معزز وذلیل سب برابر ہیں ، حق تعالیٰ کا آستانہ پکڑ لے ، نہ مخلوق پر بھروسہ کر اور نہ اپنے کسب پر اور طاقت وزور پر ، بس حق تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کر ، اسی ذات پر بھروسہ کر جس نے تجھ کو کسب پر قدرت بخشی اور تجھ کو کمانا نصیب فرمایا ، پس تو جب ایسا کرے گا وہ تجھ کو اپنے ساتھ سیر کرائے گا اور اپنی قدرت وعلم ازلی کے عجائبات دکھائے گا، تیرے قلب کو اپنے تک پہنچائے گا “۔(فیوض یزدانی :مجلس نمبر48 صفحہ 85)
 محترم قارئین !یہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ کے وہ ملفوظات ہیں جو آپ نے اپنی مجلسوں میں حاضرین اور شاگردوں کے حلقوں میں دئیے ۔ذرادیکھئے آپ کے ان الفاظ میں خالص توحیدکی بوٹپکتی ہے ، عبادت اور بندگی کے تمام اقسام صرف اﷲ کے لیے خاص کردئیے گئے ہيں ، مشرکوں ، ملحدوں، غیر اﷲ کو پکارنے والوں ، مخلوق سے حاجت روائی کی امید رکھنے والوں کی مذمت کی گئی ہے اور اس سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔
   آپ نے بڑے بڑے مجاھدے کئے
آپ آبادی چھوڑ کر جنگلوں اور بیابانوں میں رہنے لگے.
آپ خود ہی بہجۃ الاسرار میں فرماتے ہیں
ان دنوں میرے پاس رجال الغیب اور جن آتے جنھیں میں علم طریقت کی تعلیم دیا کرتا تھا.
ایک بار فرمایا شیاطین مختلف ڈراونی صورتوں میں میرے پاس آتے اور مجھ سے جنگ کرتے مگر اللہ تعالی کے فضل سے میں ہمیشہ ان پر غالب ہی رہتا ......
میں نے اپنے نفس کو طرح طرح کی ریاضتوں اور مشقتوں میں ڈالا چنانچہ ایک سال گری پڑی چیزیں کھاتا اور پانی نہ پیتا.
اور ایک سال گری پڑی چیزیں نہ کھاتا اور پانی پیتا. ایک سال نہ کھاتا نہ پیتا نہ سوتا..
آپ نے فرمایا میں نے چالیس سال تک عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی اور پندرہ سال تک یہ کیفیت رہی کہ ساری رات ایک پاؤں پر کھڑے ہوکر صبح تک پورا قرآن کریم ختم کر لیا کرتا..
آپ نے فرمایا ابتدائے حال میں میں اپنے وجود سے غائب ہوجاتا اور اکثر بے ہوشی کی حالت میں دوڑا کرتا تھا اور جب یہ کیفیت دور ہوجاتی میں اپنے آپ کو کسی دور دراز مقام پر پاتا..
الغرض عبادت وریاضت اور مجاھدات شاقہ کے بعد آپ نے پوری طرح تزکیہ باطن کرلیا
تو حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخرمی سے بیعت کی اور ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے.شیخ نے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا. فرماتے ہیں کہ شیخ کے ہاتھ سے جو لقمہ میرے پیٹ میں جاتا وہ میرے اندر ایک نور بھر دیتا..
شیخ نے خرقہ ولایت عطا کرتے وقت فرمایا
اے عبد القادر! یہ وہی خرقہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا تھا ان سے حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کو ملا پہر ان سے مجھ تک پہنچا....
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ کے دو سلسلے ہیں
.      (پہلا سلسلہ)
١) حضرت شیخ عبد القادر جیلانی
٢) حضرت ابو سعید مخزومی
٣)حضرت ابو الحسن قرشی
٤) حضرت ابو الفزح طرطوسی
٥)حضرت عبد الواحد بن عبد العزیز نمیمی
٦) حضرت ابو بکر شبلی
٧) حضرت جنید بغدادی
٨) حضرت سری سقطی
٩) حضرت معروف کرخی
١٠) حضرت داود طائی
١١) حضرت حبیب عجمی
١٢) حضرت حسن بصری
       (رحمہم اللہ )
١٣) حضرت علی کرم اللہ وجہہ
١٤) حضرت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ  وسلم ..........
       (دوسرا سلسلہ)
١)حضرت شیخ عبد القادر جیلانی
٢) حضرت سید ابو صالح
٣) حضرت سید عبد اللہ جبلی
٤) حضرت سید یحی زاھد
٥) حضرت سید داود (ابن موسی ثانی)
٦) حضرت سید موسی ثانی (ابن عبد اللہ)
٧) حضرت سید عبد اللہ (ابن سید موسی)
٨) حضرت سید موسی الجون
٩) حضرت سید عبد اللہ المحض
١٠) حضرت سید حسن مثنی
         (رحمہم اللہ)
١١) حضرت سید حسن بن علی رضی اللہ عنہ
١٢) حضرت علی رضی اللہ عنہ
١٣) حضرت محمد مصطفے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم....
(از شجرات نعمانیہ حضرت مرحوم قطب الدین ملا رحمۃ اللہ علیہ )
         فتاوی و مسلک
آپ حضرت امام شافعی و امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ کے مذھب پر فتوی دیا کرتے تھے اور عراق کے اندر فتاوی میں مرجع خلائق تھے.. اور اپنی کتابوں خصوصا غنیۃ الطالبین میں جا بجا انھیں کے حوالے دیتے ہیں اور اکثر جگہ "ہمارے امام" کے الفاظ سے خطاب کرتے ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ آپ انہی دونوں بزرگان کرام کے مذھب پر تھے..
٣٣ سال تک درس وتدریس اور افتاء کے کام میں مشغول رہے...
           شادی واولاد
آپ نے چار شادیاں کیں آپ کی چاروں ازواج آپ کے روحانی فیوض وکمالات سے فیضیاب تھیں..
اور انچاس بچے تھے.. بیس لڑکے باقی سب لڑکیاں...
آپ کے سب سے بڑے صاحب زادے کا نام شیخ عبد الوھاب تھا جنھوں نے والد بزرگوار کے ساتھ انھیں کے مدرسہ میں درس وتدریس کا کام کیا اور والد بزرگوار وعظ و نصیحت جاری رکھی آپ شیریں کلام کے لقب سے مشہور تھے..
دوسرے ایک صاحب زادے شیخ حافظ عبد الرزاق بڑے بلند پائے کے عالم اور بزرگ گزرے ہیں....
          وصال
حضرت غوث اعظم نے اپنی زندگی ابتدائی سترہ سال اپنے وطن ہی میں گزارے. اس کے بعد نو سال بغداد میں رہ کر علوم ظاہری وباطنی کی تکمیل کی. پچیس سال عراق کے بیابانوں اور جنگلوں میں ریاضات و مجاھدات کے ذریعہ سے منازل سلوک طے کئے. پہر چالیس سال تک ارشاد وھدایت اعلائے کلمۃ الحق اور اصلاح خلق میں مصروف رہے اور ہزاروں بندگان خدا کو قعر ضلالت سے نکال کر ھدایت و حکمت کے راستوں پر لگا دیا..
بالاخر اکانوے سال کی عمر میں یہ آفتاب غوثیت غروب ہوگیا. آپ نے ١١ ربیع الثانی٥٦١ ھ میں داعی اجل کو لبیک کہا بغداد میں آپ کا مرقد مبارک آج تک مرجع خلائق بنا ہوا ہے...فانا للہ وانا الیہ راجعون..
(از غنیۃ الطالبین )
فقط واللہ تعالی اعلم 


نبئ كريم صلى الله عليه وسلم کی یوم ولادت و وفات


نبی کریم علیہ السلام کی یوم پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے، بعض نے بارہ ربیع الاول، بعض نے آٹھ ربیع الاول بعض نے کوئی اور تاریخ بتلائی ہے، بارہ ربیع الاول معروف ومشہور ہے مگر یہ راجح نہیں، جمہور محدثین اورموٴرخین کے نزدیک راجح اور مختار قول آٹھ ربیع الاول کا ہے ، عبد اللہ بن عباس اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہما سے بھی یہی منقول ہے، اور اسی قول کو علامہ قطب الدین قسطلانی نے اختیار کیا ہے (زرقانی: ۱/ ۱۳۱، بہ حوالہ سیرت المصطفیٰ: ۱/۵۱) یہی قول محقق رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالی کا ہے،  مصر کے ایک محقق نے خوب تحقیق کرکے ۹ ربیع الاول کو ترجیح دی ہے جیسا کہ بنی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حاشیہ میں مذکور ہے، حتی کہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ نے ”رحمة للعالمین“ میں بارہ ربیع الاول کے قول کو غیرمعتبر کہا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ولادت کی یہ تاریخ ممکن ہی نہیں۔ یوم وفات کے بارے میں اتفاق ہے کہ ماہ ربیع الاول بروز دوشنبہ کو ہوئی ہے، البتہ تاریخ میں اختلاف ہے، مشہور قول کی بنا پر بارہ ربیع الاول کو وفات ہوئی ہے، موسیٰ بن عقبہ، لیث بن سعد، خوارزمی علیہم الرحمة نے یکم ربیع الاول کو مانا ہے، کلبی اور ابومخنف نے دو ربیع الاول کو, یہی محقق رشید احمد لدھیانوی کا مختار ہے آپ نے ابن حجررحمہ اللہ تعالی کا قول نقل کیا کہ" ولد ثانی شھر ربیع الاول" تھا کسی نے نقل میں غلطی کی اور ثانی شھر،  ثانی عشر ہوگیا اور ۱۲ ربیع الاول مشہور ہوگیا۔
والله تعالی اعلم